اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق
رائے شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ دس میں سے نو (90٪) ایرانی اسلامی جمہوری نظام سے مطمئن ہیں۔

ورلڈ پبلک اوپنین آرگنائزیشن کی رائے شماری کے مطابق ہر دس میں سے آٹھ ایرانی کہتے ہیں کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد ایران کے قانونی صدر ہیں۔
اس رائے شماری کے مطابق دس میں آٹھ افراد نے کہا ہے کہ احمدی نژاد ایماندار شخصیت ہیں.
ایران کے حکومت ساز اداروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں بھاری اکثریت نے ان اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے. صدر مملکت انتہائی پسندیدگی سے دیکھے گئے ہیں اور 84 فیصد رائے دہندگان نے انھیں پسندیدہ قرار دیا۔
مجموعی طور پر ایرانیوں کی اکثریت نے موجودہ نظام حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور 90 فیصد نے کہا کہ وہ موجودہ مظام سے مطمئن ہیں. 83 فیصد ووٹروں نے کہا کہ وہ احمدی نژاد کو دوسرے دور میں کامیاب کرنے والے انتخابات کی شفافیت سے مطمئن ہیں۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات مگر واشنگٹن پر عدم اعتماد.
ایرانیوں کی اکثریت نے تین عشرے گذرنے کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی حمایت کی مگر انہوں نے موجودہ صدر اوباما کی دنیا کے مسلمانوں کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے باوجود ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا.
ایران کے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے سلسلے میں ایران کے مختلف شہروں سے 1003 افراد سے رائے لی گئی. یہ تعلقات 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد منقطع ہوئے جب ایران نے یکطرفہ اور برابری کی بنیاد پر تعلقات پر زورر دیتے ہوئے یکطرفہ تسلط کو مسترد کیا.
امریکہ کے ساتھ تعلقات کے دوبارہ قیام کے سلسلے میں رائے دینے والوں میں سے 18 فیصد نے کہا کہ وہ ان تعلقات کے قیام کی شدت سے حمایت کریں گے جبکہ 27 فیصد نے کہا کہ وہ ان تعلقات کی شدید مزاحمت کریں گے.
دیگر 60 فیصد نے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط مذاکرات کی حمایت کریں گے اور 30 فیصد نے کہا کہ وہ اس کی مزاحمت کریں گے.
رائے دہندگان میں سے صرف 25 فیصد نے کہا کہ اوباما اسلام کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ 59 فیصد نے کہا کہ وہ ہرگز اسلام کے لئے احترام کا قائل نھیں ہیں۔
71 فیصد نے کہا کہ وہ عالمی امور کے درست انتظام کے حوالے سے اوباما پر کم ہی اعتماد کرسکتے ہیں.
اس رپورٹ کے مطابق ایرانی اوباما کو بش سے بہتر سمجھتے ہیں اور 16 فیصد ایرانی ان پر اعتماد کرتے ہیں جبکہ ان کے پیشرو جارج ڈبلیو بش کو صرف چھ فیصد ایرانی قابل اعتماد سمجھتے تھے.
ڈبلیو پی او کے ڈائریکٹر اسٹیون کل Steven Kull کے مطابق ایرانیوں کی اکثریت اوباما کے ساتھ لین دین کے حامی ہیں لیکن ان پر کم ہی اعتماد کرتے ہیں.
77 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ وہ امریکی انتظامیہ کے بارے میں ناپسندیدہ سی نگاہ رکھتے ہیں جبکہ ان 77 فیصد رائے دہندگان میں 69 فیصد نے کہا کہ وہ امریکی انتظامیہ کے بارے میں نہایت ناپسندیدہ نگاہ کے حامل ہیں.
یہ رائے شماری مقامی فارسی بولنے والے افراد کے توسط سے ٹیلیفون کے ذریعے انجام پائی ہے جنہوں نے ایران سے باہر بیٹھ کر 27 اگست سے 10 ستمبر تک انٹرویوز لئے ہیں. اس رائے شماری میں غلطی کی گنجائش 3.1 فیصد رکھی گئی ہے.